Skip to content

عرفہ کا روزہ

عرفہ کا روزہ کب رکھا جائے؟ یہ مسئلہ آج کے دور میں اختلافی مسئلہ بن گیا ہے۔ آج سے ۲۵ ۔ ۵۰ سال پہلے یہ مسئلہ اختلافی نہیں تھا ۔ہر شخص اپنے ملک کے چاند کی تاریخ کے حساب سے نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھتا تھا ۔ اہل علم کے درمیان اس مسئلے میں جو اختلاف پیدا ہواہے وہ technology کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ راجح قول اس میں یہی ہے کہ اپنے اپنے ملک کے چاندکے اعتبار سے عرفہ، رمضان، عیدالفطر اور عید الاضحیٰ وغیرہ منا یا جائے۔جیساکہ شیخ عثیمین اور دوسرے علماء کا قول ہے۔

جہاں تک سعودیہ کے چاند کے حساب سے عرفہ کا روزہ رکھنے کا سوال ہے تو یہ مندرجہ ذیل وجوہات کے بنا پر صحیح نہیں ہے۔

(۱) چودہ سو سال سے پوری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے ملک کے حساب سے ۹ ذی الحجہ کو روزہ رکھتے آئے ہیں۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چودہ سو سال تک ایک حدیث پر صحیح طریقے سے عمل ہوا ہی نہیں ، جس قائدے سے ہونا چاہئے؟ یعنی وہ حاجیوں کے عرفات میں وقوف سے match ہو جائے۔

(۲)اگر کوئی یہ کہے کہ اس زمانے میں یہ پتہ لگانا ممکن نہیں تھا کہ حاجی کب عرفات میں ہونگے۔اسلئے ہمارے اسلاف اپنے اپنے ملک کے چاند کے حساب سے ۹ ذی الحجہ کو روزہ رکھتے آئے۔لیکن اب جب ممکن ہوا تو سعودیہ کے چاند کے حساب سے ہی عرفہ کا رزہ رکھنا چاہئے۔ تو سوال یہ ہوگا کہ کیا شریعت میں ایسابھی کوئی حکم دیا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو ایسا کرو نہیں تو ایسا کرو۔اسکی کوئی دلیل نہیں۔

(۳)جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں ۹ ذی الحجہ کو روزہ رکھنے کی دلیل نہیں ہے بلکہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ توہم یہ کہیں گے کہ حاجی عرفات میں کس حساب سے جاتے ہیں؟ ان کو تاریخ دیکھ کر ہی جانا پڑتا ہے اور وہ ۹ ویں ذی الحجہ ہے۔ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حاجی جب عرفات میں جا کر ٹھہریں تب عرفہ ہوتا ہے۔ حاجیوں کے حساب سے عرفہ نہیں ہوتا ۔حاجی اگر ۷ یا ۸ ذی الحجہ کو عرفات چلے جائیں تو ان کے جانے سے کیا اس دن یوم عرفہ ہو جائے گا؟ نہیں، بلکہ ان کو تاریخ کے حساب سے یعنی ۹ ذی الحجہ کو جانا پڑیگا ۔ تو جب عرفہ کے لئے تاریخ ہے نہیں تو پھر تاریخ آئی کہاں سے کہ حاجی کو فلاں تاریخ کو عرفات جانا ہے۔ معلوم ہوا کہ عرفہ کے لئے تاریخ ہے۔وہاں تاریخ دیکھ کر ہی عمل کرنا پڑتا ہے۔ دس ذی الحجہ کو عید ہوتی ہے اور اس کے ایک دن پہلے عرفہ ہوتا ہے۔ وہ ذی الحجہ کی۹ تاریخ ہوتی ہے۔ آپ پوری علماء کی جتنی تفسیر کی کتابیں ہیں ، لغت کی کتابیں ، حدیث کی کتابیں ، شرحیں ساری کتابیں آپ دیکھ جائیں سب میں یہی ملے گا کہ عرفہ ۹ ذی الحجہ کو ہوتا ہے۔عرفہ کا دن اسلئے کہا جاتا ہے کہ حاجی لوگ اسی دن عرفات میں قیام کرتے ہیں اصل میں وہ ۹ ویں ذی الحجہ ہے۔

(۴)اسی طرح سعودیہ سے پہلے جو لوگ رہتے ہیں انکو مکہ سے ایک دن قبل چاند نظر آجا تا ہے ۔ تو وہ کیسے اپنے روزے کو حاجی سے میچ کریں؟ انکا تو اس دن عید ہوگا ۔تو کیا عید کو روزہ رکھیں؟ نہیں، اس دن روزہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ یہ انکے عید کا دن ہے۔اسی طرح دنیا کے دوسرے ملکوں میں جیسے انڈونیشیا ، امریکا ،نیوزیلینڈ وغیرہ جگہوں پر رہنے والے مسلمان چاہتے ہوئے بھی اپنے روزے کو یوم عرفہ سے میچ نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ ان ملکوں کے اوقات میں اور سعودیہ کے وقت میں ۹ سے ۱۰ گھنٹے کا فرق پڑتا ہے ۔ یعنی یہ ایسا مسئلہ ہے جس کو پوری دنیا پر فٹ نہیں کیا جا سکتا۔

لہٰذ اپنے اپنے ملک کے چاندکے اعتبار سے ہی عرفہ کا روزہ رکھنا صحیح ہے۔ واللہ اعلم

اہم نکات

- عرفہ کے دن کا روزہ، گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے (صحیح مسلم)
- عرفہ کا دن ذوالحجہ کی 9 تاریخ کو ہوتا ہے۔
- یہ دن حاجیوں کے لیے حج کا رکن اعظم ہے۔
- غیر حاجی اس دن روزہ رکھ سکتے ہیں۔

🔗 مزید مطالعہ