Skip to content

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

منتخب و مسنون دعاء

عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نےبیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دعاء کرتے سنا وہ کہہ رہا تھا ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ‘‘ ترجمہ: ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وسیلے سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے ۔ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ تو اکیلا ہے ، بے نیاز ہے جس نے نہ جنا اور نہ جنا ہی گیا اور کوئی بھی اس کی برابری کرنے والا نہیں۔ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعاء کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے۔ “(سنن ابی داود ۱۴۹۳)
اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے وسیلہ سے دعا کرنا مستحب،ٖ مسنون اور مطلوب ہے اور مشروع وسیلہ کی ایک صورت ہے۔امام طیبی کہتے ہیں۔یہ حدیث اس بات پردلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اسم اعظم ہے اور جب اس کے ساتھ دعاء کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔(عون المعبود) یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا پر مشتمل ہے۔ اللہ کواپنی حمد وثنا بہت
پسند ہے۔ جتنی خوبصورت اس کی حمد وثنا کریں گے اتنا ہی اللہ خوش ہوگا اور جو دعاء کرینگے اللہ قبول کرے گا۔ اس دعا ءمیں اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورۂ اخلاص میں ذکر کردہ صفات ہیں جو توحید کا جامع بیان ہونے کی وجہ سے لاَإِلٰهَ إِلاَّ الله کے مفہوم پر بھی مشتمل ہیں۔
اس دعاء کی عظمت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس دعاء کو سن کر فرمایا : لقد سأل الله باسمه الأعظم، الذي إذا سئل به أعطى، وإذا دعي به أجاب’’اس نے اللہ سے اس کے عظیم نام کے ساتھ دعاء کی ہے،
جب اس نام سے مانگا جائے تو اللہ عطا فرماتا ہے اور جب پکارا جائے تو جواب دیتا ہے‘‘۔
دعاء کرنے والا شخص اللہ کے بارگاہ میں گواہیوں کا عظیم وسیلہ پیش کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو احد ہے، یکتا اوراکیلا ہے، صمد ہے، کامل ہے، نہ تیری کوئی اولاد ہے نہ تیرا کوئی ما ں باپ، نہ کوئی نظیر نہ کوئی مثیل۔ یہ ساری گواہیاں پیش کر رہا ہے کہ یہ میری گواہیاں ہیں ، میرا عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کو تیری بارگاہ میں بطور وسیلہ پیش کر رہا ہوں اور تجھ سے سوال کر رہا ہوں ، تجھ سے مانگ رہا ہوں تو عطا کر دے۔ یہ ایسا با برکت نام ہے اسم اعظم کہ جب اس واسطے سے دعا ء کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور جو طلب کیا جائے اسے عطا فر ما دیتا ہے۔ یہ عقیدے اور عمل
کا وسیلہ ہے جس کو پیش کرکے حاجت مانگی جائے تو اللہ تعا لیٰ عطا فرماتا ہے۔ جس طرح غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ ہے جس کا ذکر مسلم شریف ( حدیث نمبر ۶۹۴۹ ) میں ہے ۔ تینوں نے ایک دعاء کی اور اپنے عمل کا وسیلہ پیش کیا اور اس عمل کو توحید کا اساس بنایا کہ اگر یہ عمل تیرے رضا کے لئے خالص تھا تو ہمیں اس غار سے نجات دےدے۔ اللہ نے چٹان کو ہٹا دیا اور راستہ بن گیا۔
اسی طرح سورۃ آل عمران میں ایک دعاء مذکور ہے ایمان کے وسیلے کے ساتھ : رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَ‍َٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّ‍َٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ١٩٣ رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ إِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ١٩٤ ’’ اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے والا با آواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم ایمان لائے یا الٰہی! اب تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کردے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا‘‘۔ یعنی میں نےایمان لایا ۔اب یہ ایمان تیرے حضور بطور وسیلہ پیش کر رہا ہوں۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے، ہمارے غلطیوں کو، لغزشوں کو مٹادے اور جب موت آجائے، روح قبض ہو تو روح قبض کر کے ہمیں نیک بندوں میں شامل فرما اور قیامت کے دن رسوا نہ کر، رسولوں کے ذریعے جو تو نے اجر عطا کرنے کا وعدہ کیا وہ سارے اجر عطا فرمادے، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
ان آیات میں بھی ایمان کا وسیلہ ہے کہ تیرے منادی نے ایمان کی دعوت دی اور ہم نے سن کر قبول کر لی۔ یہ ایمان کو حجت بنا کر وسیلے کے طور پر تیری جناب پیش کر رہا ہوں ۔ ہماری یہ درخواست قبول کر لے اور ہم کو معاف فرمادے۔ طلب بھی عظیم ہے اور وسیلہ بھی عظیم۔ وسیلہ ایمان کا اورایمان میں سر فہرست اللہ کی توحیدکا۔ اوپر بیان کردہ دعاء میں بھی بندہ اللہ کی بار گاہ میں توحید کا وسیلہ پیش کر رہا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ اس کے دعاء کی قبولیت کی بشارت دے رہے ہیں۔ یہ دین کی برکت ہے کہ یہ دعاء ہمارے پاس پوری طرح محفوظ ہے۔ اس دعاء کو یاد کر لیں اور پڑھا کریں۔اللہ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے ۔ آمین

اہم نکات

- دعاء عبادت کی روح ہے ۔
- اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے وسیلہ سے دعاء کرنا مستحب،ٖ مسنون اور مطلوب ہے