Skip to content

تین صحابہ کرام رضی الله عنہم کی توبہ کی قبولیت کا واقعہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِيْم


وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ )سورۃ التوبہ۔۱۱۸)

ترجمہ :’’اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی رکھا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کرسکیں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے‘‘۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو توبہ کی قبولیت کی بشارت دی ہے جو غزوہ تبوک میں سستی کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ غزوہ سے واپس تشریف لائے اور ساتھ نہ دینے والے اپنے اپنے عذر پیش کر کے معافی مانگنے لگے تو انہوں نے کوئی عذر پیش نہیں کیا اوررسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی غلطی کا صاف اعتراف کر لیا اور اس کی سزا کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ نبی (ﷺ) نے انکے معاملے کو اللہ تعالٰی کے سپرد کر دیا کہ وہ ان کے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے گا ۔ اس دوران صحابہ کرام (رضی الله عنہم) کو ان تینوں افراد سے تعلق قائم رکھنے حتٰی کے بات چیت تک کرنے سے روک دیا گیااور چالیس راتوں کے بعد انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں سے بھی دور رہیں ۔مزید دس دن اورگزرے تو توبہ قبول کر لی گئی اور مذکورہ آیت نازل ہوئی ۔
یہ تین شخص کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع (رضی الله عنہم) تھے۔ یہ تینوں نہایت مخلص مسلمان تھے۔ کعب بن مالک ؓان تہتر سابقین انصار میں سے ہیں جنہوں نے عقبہ ثانیہ میں بیعت کی تھی اور ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع دونوں بدری صحابی تھے، یعنی ان جاں نثاروں میں سے ہیں جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی۔ ان تینوں صحابہ کرام رضی الله عنہم سے غزوہ تبوک میں کوتاہی ہوئی۱ ور شریک نہ ہوئے لیکن جب آنحضرت واپس تشریف لائے اور ساتھ نہ دینے والے اپنے اپنے عذر پیش کر کے معافی مانگنے لگے تو انہوں نے کوئی خاص عذر پیش نہیں کیا اور صاف صاف تسلیم کرلیا کہ ہماری سستی اور کاہلی تھی کہ اس سعادت سے محروم رہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا حکم الہی کا انتظار کرو۔ پھر تمام مسلمانوں کو حتی کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم ہوا کہ ان سے ملنے جلنے کے تمام تعلقات منقطع کرلیں۔ چنانچہ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ مدینہ اور اطراف مدینہ کی پوری آبادی نے ان کی طرف سے رخ پھیر لیا ۔ ان کے عزیز و قریب تک ان کے سلام کا جواب نہیں دیتے تھے۔ آخر جب پورے پچاس دن اسی حالت میں گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آہ و زاری اور توبہ قبول فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی ۔
ان تین صحابیوں میں سے حضرت کعب بن مالک نے خود اپنی سرگزشت تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں تمام جنگوں میں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور اس موقع پر بھی نکلنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ایک کے بعد ایک دن نکلتےگئے اور میں اسی خیال میں رہا کہ اپنے معاملات نپٹا لوں تو نکلوں۔ یہاں تک کہ آج کل ہوتے ہوتے پورا وقت نکل گیا۔ اتنے میں خبر ملی کہ آنحضرت ﷺ واپس آرہے ہیں۔ تب میری آنکھیں کھلیں، لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔آپ حسب معمول پہلے مسجد میں تشریف لائے اور جو لوگ جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ آ آ کر معذرتیں کرنے لگے اور قسمیں کھا کھا کر اپنی سچائی کا یقین دلانے لگے۔ یہ تقریباً اسّی آدمی تھے۔انہوں نے جو کچھ ظاہر کیا آنحضرت ﷺنے قبول کرلیا اور ان کے دلوں کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔ جب میری طرف متوجہ ہوئے تو مجھ سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی جھوٹی معذرت بنا کر کہہ دیتا۔ جو کچھ سچی بات تھی صاف صاف عرض کردی۔ آپ نے سن کر فرمایا اچھا جاؤ اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا اور بھی کسی کو ایسا حکم ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ کو۔ اس کے بعد جب آنحضرت ﷺ کا حکم ہوا کہ ہم تینوں سے کوئی بات چیت نہ کرے تو سب نے منہ پھیر لیا۔ اچانک دنیا کچھ سے کچھ ہوگئی، گویا کل تک جس دنیا میں تھا اب وہ دنیا ہی نہیں رہی تھی۔ میرے دونوں شریک ابتلا گھر میں بند ہو کر بیٹھ گئے تھے لیکن میں سخت جان تھا۔ اس حالت میں بھی روز گھر سے نکلتا، مسجد میں حاضری دیتا، جماعت میں شریک ہوتا اور پھر ایک گوشہ میں سب سے الگ بیٹھ جاتا۔ اکثر ایسا ہوا کہ نماز کے بعد قریب جاکر سلام عرض کرتا اور پھر اپنے جی میں کہتا دیکھوں سلام کے جواب میں آپ کے لبوں کو حرکت ہوتی ہے یا نہیں؟ آپ ﷺگوشہ چشم سے کبھی کبھی دیکھ لیتے لیکن جب میری نگاہ حسرت اٹھتی تو رخ پھر جاتا ۔ ایک دن شہر سے باہر نکلا تو ابو قتادہ ؓکے باغ تک پہنچ گیا۔ یہ میرا چچیرا بھائی تھا اور اپنے تمام عزیزوں میں اسے زیادہ محبوب رکھتا تھا۔ میں نے سلام کیا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی اپنے دل میں محبت رکھتا ہوں؟ اس پر بھی اس نے میری طرف رخ نہیں کیا۔لیکن جب میں نے یہی بات بار بار دہرائی تو صرف اتنا کہا ’’اللہ اور اس کےرسول کو بہتر علم ہے‘‘۔ تب مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور بے اختیار آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ وہاں سے واپس ہوا تو راستہ میں شام کے ایک قبطی کو جو مدینہ میں غلہ بیچنے آیا تھا ، یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک ؓ کا پتہ بتا دے ۔لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا ۔وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا ایک خط دیا ۔ میں لکھا پڑھا تو تھا ہی ۔ میں نےخط کو پڑھا تو اس میں لکھا تھا ’’ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ ۔ ہم ہر طرح کی خدمت گزاریوں کے لیے تیار ہیں ‘‘۔ خط پڑھ کر میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور نئی مصیبت آئی، گویا پچھلی بلائیں کافی نہ تھیں۔ میں نے اس رقعے کو چولھے میں جلا دیا۔
جب اسی حالت پر چالیس راتیں گزر چکیں تو آنحضرت ﷺکی جانب سے ایک آدمی آیا اور کہا حکم ہوا ہے تم اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ۔میں نے کہا طلاق دے دوں؟ کہا نہیں صرف علیحدگی کا حکم ہے، ہلال اور مرارہ کو بھی ایسا ہی حکم ہوا ہے۔ اس حکم پر میں نے اپنی بیوی کو اس کے میکے بھجوا دیا۔ جب دس دن اور گزر گئے تو پچاسویں رات پر صبح آئی۔ میں اپنے مکان کی چھت پر نماز پڑھ کر دل برداشتہ حیران و پریشان بیٹھا تھا اور ٹھیک ٹھیک میری وہی حالت تھی جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔ زندگی سے تنگ آگیا تھا اور اللہ کی زمین بھی اپنی ساری کشادگی کے باوجود میرے لیے تنگ ہوگئی تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی۔ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوش ہو جا ، تمہاری توبہ قبول ہوگئی۔ واللہ ! میں اسی وقت سجدے میں گڑ پڑا ۔اب لوگ جوق در جوق مجھے مبارک باد دینے کے لیے دوڑے۔ ایک آدمی گھوڑا دوڑاتے ہوئے آیا، لیکن بشارت کی آواز اس سے بھی زیادہ تیز ثابت ہوئی تھی۔ میں مسجد میں حاضر ہوا تو آنحضرت ﷺ لوگوں کے حلقہ میں بیٹھے تھے۔ آنحضرت ﷺکا قاعدہ تھا کہ جب خوش ہوتے تو چہرہ مبارک چمکنے لگتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔ہم لوگوں کو یہ بات معلوم تھی اس لیے ہمیشہ آپ کے چہرہ پر نگاہ رکھتے تھے۔ چنانچہ میں نے دیکھا اس وقت بھی چہرہ مبارک چمک رہا تھا۔ فرمایا کعب ! تجھے آج اس دن کے آنے کی بشارت دیتا ہوں جو تیری زندگی کا سب سے بہترین دن ہے۔ میں نے عرض کیا یہ بات آپ کی جانب سے ہوئی یا اللہ کی وحی سے؟ فرمایا اللہ کی وحی سے۔ (صحیحین)
سورۃ توبہ کی اس آیت کی پوری تفصیل میں مسلمانوں کے لیے گہری عبرت اور بصیرت افروز نصیحت پوشیدہ ہےجو ایمان اور عمل کی اصلاح کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔امام احمد بن حنبلؒ کی نسبت منقول ہے کہ قرآن کی کوئی آیت انہیں اس قدر نہیں رلاتی تھی جس قدر یہ آیت اور کعب بن مالکؓ کی روایت۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ :
(ا) خدمت حق (اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کے احکامات کی بجا آوری اور دین کی سربلندی کے لیے خلوص دل سے کوشش کرنا ) میں تساہل اور سستی ایک مومن کے لیے کیسا سخت جرم ہے کہ ایسے مخلص اور مقبول صحابی بھی اس درجہ سرزنش کے مستحق ہوئے اور تمام مسلمانوں کو ان سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا۔
(ب) مسلمانوں کی اطاعت و فرمانبر داری کا کیا حال تھا کہ جونہی قطع تعلق کا حکم ہوا تمام شہر نے بیک وقت رخ پھیر لیا۔ چوری چھپے بھی کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی حتی کہ ان کے محبوب سے محبوب عزیزوں کو بھی یہ خیال نہیں گزرا کہ ایک لمحہ کے لیے اس پر عمل کریں یا کم از کم تعمیل میں نرمی و تساہل سے کام لیں۔ ابو قتادہ ؓکا حال خود حضرت کعب ؓکی زبان سے سن چکے ہیں۔ جب انہوں نے کہا تم تو اس سے بے خبر نہیں ہوسکتے کہ میں سچا مسلمان ہوں، اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہوں، پھر مجھ سے رخ کیوں پھیر لیا ہے؟ تو ابو قتادہؓ نے صرف یہی کہا کہ اللہ ورسولہ اعلم۔ ان تین لفظوں میں اس عہد کے مسلمانوں کی ذہنیت کی پوری تصویر اتر آئی ہے۔ یعنی مجھے معلوم تو سب کچھ ہے، جانتا ہوں کہ تم پکے مسلمان ہو، لیکن اپنے جاننے کو کیا کروں؟ جاننا تو اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور اس کا حکم یہی ہے کہ تم سے کوئی واسطہ نہ رکھوں۔ پھر اس اطاعت کے لیے نہ تو کوئی مادی قوت کام میں لائی گئی تھی،نہ حکومت کا ڈر تھا اور نہ قانون و عدالت کا۔ صرف اللہ کے رسول ﷺ کے لبوں نے حرکت کی تھی اور اتنی بات سب کو معلوم ہوگئی تھی کہ اس کی مرضی یہی ہے۔ بس اتنی بات کا معلوم ہوجانا اس کے لیے کافی تھا کہ سب کے دل مکمل طور پر فرمانبرداری اور اطاعت کے پیکر بن جائیں۔
(ج) پھر یہ بھی دیکھیں کہ مسلمانوں کی باہمی اخوت و محبت کا کیا حال تھا؟ اس سختی کے ساتھ حکم کی تعمیل تو سب نے کی لیکن ساتھ ہی ان کی مصیبت کے غم سے کوئی دل خالی بھی نہ تھا۔ سب کے دلوں کو لگی تھی کہ ان کی توبہ قبول ہوجائے اور جونہی قبولیت کا اعلان ہوا ہر کوئی جلدی کرنے لگا کہ سب سے پہلے خوشخبری دینے کا شرف اسے حاصل ہو۔ سبحان اللہ وہ کیسا منظر ہوگا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا قصہ بیان کرنے کے بعد کہا کرتے : ’’اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اللہ نے کسی شخص کو سچ کہنے کی توفیق دے کر اس پر اتنا احسان کیا ہو جیسا کہ مجھ پر کیا۔ میں نے اس وقت سے لے کر آج تک قصداً کبھی جھوٹ نہیں بولا‘‘۔حدیث میں آتا ہے کہ مومن سے کچھ اور کوتاہیوں کا صدور تو ہو سکتا ہے لیکن وہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ ان بزرگوں نے سچی بات کہہ دی اور تسلیم کرلیا کہ ہماری سستی اور کاہلی تھی کہ اس سعادت سے محروم رہے جس کی وجہ سے کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر کار سلامتی اور ابدی راحت ملی ۔
سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غلطیوں کو نہ صرف معاف فرمادی بلکہ ان کی توبہ کو قرآن بنا کر نازل فرمادیا۔ رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔ اسی لئے اگلی آیت میں مومنین کو حکم دیا گیا کہ

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ

’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو‘‘۔ اللہ تعا لیٰ ہم سب کو سچوں کے ساتھ شامل کر لے۔ آمین

اہم نکات

- تین صحابہ کرام رضی الله عنہم کی توبہ کی قبولیت کا واقعہ
- یہ تین صحابہ کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع (رضی الله عنہم) تھے۔