دعوت دین کا حکم
:نبی ﷺ نے فرمایا
بَلِّغوُا عَنِّی وَ لَوۡ آیَۃً وَ حَدِّثُوا
میری بات دوسرے لوگوں کو پہنچا دو اگرچہ وہ ایک ہی آیت ہو۔
(صحیح بخاری، کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان)
شریعت کے دو حصے ہیں:
عقائد اور اعمال
عقائد : ان سے مراد وہ امور ہیں جن کا تعلق کیفیت عمل سے نہیں ہے ، مثلاً اللہ تعالیٰ کی ربوبت [رب ہونے] اور اسکی عبادت کے وجوب کا اعتقاد رکھنا، اسی طرح تمام ارکان ایمان کا اعتقاد رکھنا، اور یہ "اصل " [بنیاد / جڑیں] بھی کہلاتے ہیں۔
۱عمال: ان سے مراد وہ امور ہیں جن کا تعلق کیفیت عمل سے ہے، مثلاً نماز، ذکوٰۃ، روزہ اور دیگر عملی احکامات۔ یہ "فروع" [شاخیں] بھی کہلاتے ہیں، کیونکہ یہ[ فروع / شاخیں] ان عقائد [اصل/جڑوں] کی صحت یا فساد پر قائم ہوتے ہیں۔ لہٰذا صحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی عمارت قائم ہے اور اسی سے اعمال درست قرار پاتے ہیں۔
شرعی اصطلاح میں ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اقراراور اعضاء و جوارح سےعمل کرنے کا نام ہے۔
ارکان ایمان
عقائد اور اعمال
عقائد : ان سے مراد وہ امور ہیں جن کا تعلق کیفیت عمل سے نہیں ہے ، مثلاً اللہ تعالیٰ کی ربوبت [رب ہونے] اور اسکی عبادت کے وجوب کا اعتقاد رکھنا، اسی طرح تمام ارکان ایمان کا اعتقاد رکھنا، اور یہ "اصل " [بنیاد / جڑیں] بھی کہلاتے ہیں۔
۱عمال: ان سے مراد وہ امور ہیں جن کا تعلق کیفیت عمل سے ہے، مثلاً نماز، ذکوٰۃ، روزہ اور دیگر عملی احکامات۔ یہ "فروع" [شاخیں] بھی کہلاتے ہیں، کیونکہ یہ[ فروع / شاخیں] ان عقائد [اصل/جڑوں] کی صحت یا فساد پر قائم ہوتے ہیں۔ لہٰذا صحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی عمارت قائم ہے اور اسی سے اعمال درست قرار پاتے ہیں۔
شرعی اصطلاح میں ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اقراراور اعضاء و جوارح سےعمل کرنے کا نام ہے۔
ارکان ایمان
- الله تعا لیٰ پر ایمان [جس کی بنیاد توحید ہے]
- الله کےفرشتوں پر ایمان
- الله کی کتابوں پر ایمان
- الله کے رسولوں پر ایمان
- یوم آخرت پر ایمان
- تقدیر کے خیر و شر پر ایمان
- کلمه طیبه [توحیدورسالت]
- نماز
- ذکوٰۃ
- روزہ
- حج
غور طلب بات
"اللہ تعا لیٰ نے ہر مسلمان مرد و عورت پر علم دین حا صل کرنا فرض قرار دیا ہے۔ قرآ ن میں ذکر کردہ انسانیت کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آدم علیہ ا لسلام کو دنیا کی خلافت کا حق ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے علم ہی کا امتحان لیااور فرشتوں پر انسان کی برتری اور عظمت علم ہی کے اعتبار سے ہوئی۔ اللہ تعالٰی نے ایک تو فرشتوں پر حکمت تخلیقِ آدم واضح کردی۔ دوسرے دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے علم کی اہمیت و فضیلت بھی بیان فرمادی۔ لہٰذا اب اگر اولاد آدم میں کوئی شخص علم سے لا پرواہ رہتا ہے تو خلافت الٰہی کا حق ادا نہیں کر سکتا۔"